ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’’ایودھیا نہیں قرضوں کی معافی چاہئے‘‘ جملہ باز حکومت کو اکھاڑ پھینکیں گے۔احتجاج کے دوران کسانوں کا اعلان

’’ایودھیا نہیں قرضوں کی معافی چاہئے‘‘ جملہ باز حکومت کو اکھاڑ پھینکیں گے۔احتجاج کے دوران کسانوں کا اعلان

Sat, 01 Dec 2018 14:03:05    S.O. News Service

نئی دہلی،یکم دسمبر(ایس او نیوز؍یو این آئی)  کانگریس صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت پر کسانوں اور نوجوانوں کی کوئی خبر نہ لینے اور چند صنعت کاروں کے حق میں کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مل کر کسانوں کے حق کی لڑائی لڑے گی۔راہل گاندھی نے جمعہ کو یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ پر ‘کسان مکتی مارچ’ میں حصہ لینے آئے ملک بھر کے کسانوں کی بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت کسان کا کام نہیں کرسکتی ہے اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے اور اسے رہنے بھی نہیں دیا جانا چاہئے۔

کانگریس صدر جب کسانوں کو خطاب کررہے تھے تب اسٹیج پر ان کے ساتھ دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سیتا رام یچوری، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے ڈی راجہ، نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ، لوک تانترک جنتا دل کے شرد یادو، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار، سماج وادی پارٹی کے دھرمندر یادو سمیت کئی اہم لیڈران موجود تھے ۔ راہل گاندھی نے اسٹیج پر آتے ہی کجریوال سے ہاتھ بھی ملایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کے کسان اور نوجوانوں کو نظرانداز کردیا ہے ۔ ملک کے لئے صبح سے لے کر دیر رات تک خون پسینہ بہانے والے کسانوں اور نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بھول چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پریشان ہوکر ملک کا کسان دہلی آنے پر مجبور ہوا ہے ۔ حکومت ان کے ساتھ انصاف نہیں کررہی ہے اس لئے کانگریس اور اپوزیشن پارٹیوں کو مل کر کسانوں اور نوجوانوں کے مستقبل کی لڑائی لڑنی ہے۔

 راہل گاندھی نے کہا کہ اسٹیج پر موجود اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کے خیالات یکساں نہیں ہوسکتے لیکن کسانوں اور نوجوانوں کے مسئلہ پر ہم سب ایک ہیں کیونکہ کسان اور نوجوان ملک کی طاقت ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ کسان کا مودی حکومت نے بیمہ اور پیسہ جمع کرنے کا متبادل بھی ان سے چھین لیا ہے اور اپنے قریبی صنعت کاروں کی بیمہ کمپنیوں کو یہ کام دے دیا ہے ۔

اس موقع پر اروند کجریوال نے کہا  کہ ملک کا کسان دکھی ہوکر دہلی آیا ہے ۔ کسان اپنے مطالبات کے لئے اپنا کام چھوڑ کر آیا ہے لیکن حکومت ان کی نہیں سنتی۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں کسان کی بات نہیں سنی جاتی ہے وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ شرد یادو نے کہا کہ ملک کا کسان پریشان ہے ۔ پورے ملک میں قرض میں ڈوبے کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ لیکن مودی حکومت چند صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے میں لگی ہوئی ہے ۔ صنعت کار بینکوں کا قرض معاف کراکر بیرون ملک بھاگ رہے ہیں لیکن حکومت کسانوں کا قرض معاف نہیں کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے جمہوریت خطرے میں ہے ۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی ایم) کے لیڈر سیتا رام یچوری نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کسانوں کے مسائل نہیں سنے گی تو بم سے بھی زیادہ آواز میں اب دھماکہ ہوگا اور اس حکومت کو جانا ہوگا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ عوام مخالف حکومت کو ہٹانے اور ہندوستان کو بچانے کے لئے ان کے مفادات میں کام کرنے والی حکومت کو لانا ضروری ہوگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی میعاد کار میں زرعی شرح نمو میں کمی آئی ہے اور زرعی اشیا کی لاگت قیمت میں مسلسل اضافے سے کسان بڑی مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔

نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ کسان ملک کی طاقت ہیں لیکن مودی حکومت ان کی بات نہیں سن رہی ہے ۔ اس لئے مجبورا انہیں اپنے مطالبات کے لئے دہلی آنا پڑا۔ یہ حکومت صرف ووٹ کے لئے صف بندی کرنے میں جٹی ہوئی ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کا مسلمان مندر بنانے کے خلاف نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رام صرف ہندوستان کے نہیں ہیں بلکہ رام پوری دنیا کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر ہندوستان کا حصہ تھا، ہے اور ہندوستان کا حصہ بنا رہے گا۔کسان مکتی مار چ میں راشٹریہ لوک دل، تیلگو دیشم پارٹی اور سوراج ابھیان، نرمدا بچاؤ آندولن کے کارکنوں سمیت 208تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کے نمائندے موجود تھے ۔ریلی میں کسانوں نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ انہیں ایودھیا نہیں زرعی قرضوں کی معافی چاہئے۔


Share: